السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: مبتدأ البعث والتنزيل باب: بعثت (نبوت) اور نزولِ وحی کے آغاز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَخَشِيتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ: " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي "، فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ: الْأَوْثَانُ، قَالَ: " ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ "..سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا توقف ہو گیا اور اسی دوران میں ایک بار (راستے میں) جا رہا تھا۔ اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر (معلق) بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا حتیٰ کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو لوٹا اور ان سے کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [سورة المدثر: 1-6] ”اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔“