السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في كيفية الاستئذان باب: اجازت طلب کرنے کے طریقے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17669
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ؟.حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
(اس روایت میں راوی نے کہا: میں نے اسے یہ کہتے سنا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“، کیا میں داخل ہو جاؤں؟) اور ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ اپنے بالا خانے میں تھے تو کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو، آپ پر سلامتی ہو، کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟“