السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في كيفية الاستئذان باب: اجازت طلب کرنے کے طریقے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17666
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أنبأ عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ فِي الْفَتْحِ بِلِبَاءٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْوَادِي، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ بَعْدَمَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَقَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بوہلی (پہلا دودھ)، ہرن کا ایک بچہ اور کھیرے دے کر بھیجا، جبکہ نبی ﷺ وادی کے بالائی حصے میں تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس بغیر سلام کہے اور بغیر اجازت لیے چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور کہو: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے۔
عمرو کہتے ہیں: مجھے یہ روایت امیہ بن صفوان نے بھی بیان کی، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اسے کلدہ سے سنا ہے۔