السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في كيفية الاستئذان باب: اجازت طلب کرنے کے طریقے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمْ يُؤَذَنْ لَهُ، فَانْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا لَكَ لَمْ تَأْتِنِي؟ قَالَ: قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤَذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤَذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيَّ ذَا بَيِّنَةٍ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا، قَالَ: جِئْتُ أَسْتَشْهِدُكُمْ، قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اجْلِسْ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ، فَقُمْتُ فَشَهِدْتُ لَهُ عِنْدَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ أَبِي عُمَرَ.سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی تین مرتبہ اجازت طلب کی، پھر واپس آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ ”جو اجازت مانگے تو تین مرتبہ طلب کرے۔ اگر جواب نہ ملے تو واپس لوٹ آئے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہ پیش کرو ورنہ تمہیں سزا دوں گا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور قوم کے سامنے بات کی تو میں نے کہا: قوم کا سب سے چھوٹا آدمی تمہاری گواہی دے گا۔ ان دنوں ان میں، میں ابو سعید سب سے چھوٹا تھا، تو میں نے جا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے گواہی دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے، اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جائے۔“