السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: التعدي والاطلاع باب: زیادتی کرنے اور (دوسروں کے گھروں میں) جھانکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17657
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي فَإِذَا صَاحِبٌ لَهُ قَدِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ فَرَأَى امْرَأَةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ هُدِرَتْ عَيْنُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ تھا کہ ان کے ایک ساتھی نے کسی قوم کے گھر میں جھانکا اور ایک عورت کو دیکھ لیا، پھر انہوں نے پورا واقعہ ذکر کیا، پھر کہا: ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں ہے۔“