السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: التعدي والاطلاع باب: زیادتی کرنے اور (دوسروں کے گھروں میں) جھانکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17652
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ⦗٥٨٧⦘ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ الْحُجْرَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى، فَقَالَ لَهُ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى أَتَيْتُهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ، وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؟ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حجرے کے پردے سے نبی ﷺ کی طرف جھانکا، اس وقت نبی ﷺ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے یہاں تک کہ میں اس کے پاس پہنچ گیا، تو میں کنگھی اس کی آنکھ میں مار دیتا۔ اجازت طلب کرنا نظر ہی کی وجہ سے تو رکھا گیا ہے۔“