حدیث نمبر: 17632
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: جَاءَ وَفْدُ بُزَاخَةَ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ، فَخَيَّرَهُمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الْحَرْبِ الْمُجْلِيَةِ أَوِ السَّلْمِ الْمُخْزِيَةِ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الْحَرْبُ الْمُجْلِيَةُ قَدْ عَرَفْنَا، فَمَا السَّلْمُ الْمُخْزِيَةُ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تُؤَدُّونَ الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ، وَتَتْرُكُونَ أَقْوَامًا تَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ وَالْمُسْلِمِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ، وَتَدُونَ قَتْلَانَا وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ، وَقَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، وَتَرُدُّونَ مَا أَصَبْتُمْ مِنَّا، وَنَغْنَمُ مَا أَصَبْنَا مِنْكُمْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ رَأَيْتَ رَأْيًا وَسَنُشِيرُ عَلَيْكَ، أَمَّا أَنْ يُؤَدُّوا الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ فَنِعِمَّا رَأَيْتَ، وَأَمَّا أَنْ يَتْرُكُوا قَوْمًا يَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ وَالْمُسْلِمِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَهُمْ بِهِ فَنِعِمَّا رَأَيْتَ، وَأَمَّا أَنْ نَغْنَمَ مَا أَصَبْنَا مِنْهُمْ وَيَرُدُّونَ مَا أَصَابُوا مِنَّا فَنِعِمَّا رَأَيْتَ، وَأَمَّا أَنَّ قَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ فَنِعِمَّا رَأَيْتَ، وَأَمَّا أَنْ يَدُوا قَتْلَانَا فَلَا، قَتْلَانَا قُتِلُوا عَلَى أَمْرِ اللهِ فَلَا دِيَاتَ لَهُمْ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَمْوَالِ لَا يُخَالِفُ قَوْلَهُ فِي الدِّمَاءِ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، مَا أُصِيبَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ أَعْيَانِ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ، لَا تَضْمِينَ مَا أَتْلَفُوا.
حافظ ثناء اللہ

طارق بن شہاب کہتے ہیں: بزاخہ، اسد اور غطفان کا ایک وفد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تاکہ آپ سے صلح کر لیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا کہ یا تو واضح لڑائی ہے یا ذلت کے ساتھ جھکنا ہے، تو وہ کہنے لگے: واضح لڑائی تو ہم جانتے ہیں، ذلت کے ساتھ جھکنا کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سرسبز و شاداب زمین والے ہو، تم ایسی قوم ہو جو اونٹوں کی دموں کے پیچھے چلتے ہو اور جب اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی معاملے پر دکھا دے گا تو تم عذر پیش کرتے ہو۔ تم ہمارے مقتولین کی دیت دو گے، ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے اور تمہارے مقتولین جہنم میں، ہمارے جنت میں ہیں۔ تمہیں ہمارا جو بھی مال بطور غنیمت ملا ہے اسے واپس دو گے۔ ہم تمہارا مال نہیں دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہوں نے یہ سب باتیں مان لیں، صرف مقتولین کی دیت سے انکار کر دیا؛ کیونکہ یہ تو جنگ میں قتل ہوئے تھے اور اسی پر فیصلہ ہو گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17632
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»