السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: قتال أهل الردة وما أصيب في أيديهم من متاع المسلمين باب: مرتدین سے قتال اور مسلمانوں کے جو اموال ان کے قبضے میں چلے گئے ہوں ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا وَجَّهَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ أَوْعَبَ مَعَهُ بِالنَّاسِ، وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى نَزَلَ بِذِي الْقَصَّةِ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى بَرِيدَيْنِ، فَعَبَّأَ هُنَالِكَ جُيُوشَهُ، وَعَهِدَ إِلَيْهِ عَهْدَهُ، وَأَمَّرَ عَلَى الْأَنْصَارِ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، وَأَمَّرَهُ إِلَى خَالِدٍ، وَأَمَّرَ خَالِدًا عَلَى جَمَاعَةِ النَّاسِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَصْمُدَ لِطُلَيْحَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْأَسَدِيِّ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهُ صَمَدَ إِلَى أَرْضِ بَنِي تَمِيمٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِمَّا بِهَا، وَأَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَأَظْهَرَ أَنَّهُ سَيَلْقَى خَالِدًا بِمَنْ بَقِيَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ فِي نَاحِيَةِ خَيْبَرَ، وَمَا يُرِيدُ ذَلِكَ إِنَّمَا أَظْهَرَهُ مَكِيدَةً، قَدْ كَانَ أَوْعَبَ مَعَ خَالِدٍ بِالنَّاسِ، فَمَضَى خَالِدٌ حَتَّى الْتَقَى هُوَ وَطُلَيْحَةُ فِي يَوْمِ بُزَاخَةَ عَلَى مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهُ: قَطَنٌ، وَقَدْ كَانَ مَعَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ فِي سَبْعمِائَةٍ مِنْ فَزَارَةَ، فَكَانَ حِينَ هَزَّتْهُ الْحَرْبُ يَأْتِي طُلَيْحَةَ فَيَقُولُ: لَا أَبَا لَكَ هَلْ جَاءَكَ جِبْرِيلُ بَعْدُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا يُنْظِرُهُ؟ فَقَدْ وَاللهِ جَهَدْنَا، حَتَّى جَاءَهُ مَرَّةً فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَعَمْ قَدْ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّ لَكَ رَحًى كَرَحَاهُ، وَحَدِيثًا لَا تَنْسَاهُ، فَقَالَ: أَظُنُّ قَدْ عَلِمَ اللهُ أَنَّهُ سَيَكُونُ لَكَ حَدِيثٌ لَا تَنْسَاهُ، هَذَا وَاللهِ يَا بَنِي فَزَارَةَ كَذَّابٌ، فَانْطَلِقُوا لِشَأْنِكُمْ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَتْلَ طُلَيْحَةَ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَثَابِتَ بْنَ أَقْرَمَ فِي هَذَا الْوَجْهِ، ثُمَّ إِسْلَامَهُ حِينَ غَلَبَ الْحَقُّ، وَإِحْرَامَهُ بِالْعُمْرَةِ وَمُرُورَهُ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ أَقَادَ مِنْهُ أَوْ أَلْزَمَهُ الْعَقْلَ.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کی طرف روانہ کیا تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کے ساتھ بھیجی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ ذی القصہ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا جو مدینہ سے 2 برید کے فاصلے پر ہے۔ وہاں آپ نے اپنے لشکر ترتیب دیے اور انہیں اپنی ہدایات دیں اور انصار پر سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا اور انہیں خالد کے ماتحت کیا، اور مہاجرین اور عرب قبائل کی پوری جماعت پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، پھر حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کا رخ کرنا، پھر اس سے فارغ ہو کر بنو تمیم کی زمین کا رخ کرنا یہاں تک کہ وہاں کے معاملے سے فارغ ہو جاؤ۔ یہ بات آپ نے انہیں راز میں بتائی اور ظاہر یہ کیا کہ وہ باقی ماندہ لوگوں کو لے کر خیبر کی جانب خالد سے جا ملیں گے، حالانکہ آپ کا یہ ارادہ نہ تھا، یہ صرف ایک تدبیر کے طور پر ظاہر کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چلتے رہے یہاں تک کہ بزاخہ کے دن بنو اسد کے پانیوں میں سے ایک پانی پر، جس کا نام قطن تھا، ان کا اور طلیحہ کا مقابلہ ہوا اور طلیحہ کے ساتھ بنو فزارہ کے 700 آدمیوں کے ساتھ عیینہ بن بدر تھا۔ جب جنگ اسے جھنجھوڑتی تو وہ طلیحہ کے پاس آتا اور کہتا: تیرا باپ نہ ہو، کیا ابھی تک تیرے پاس جبرائیل آئے؟ وہ کہتا: اللہ کی قسم نہیں۔ وہ کہتا: انہیں کس چیز نے روک رکھا ہے؟ اللہ کی قسم ہم تو تھک گئے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ آیا اور پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میرے پاس آئے ہیں اور کہا ہے: ”تیرے لیے اس کی چکی جیسی چکی ہے اور ایسی بات جسے تو نہیں بھولے گا۔“ تو عیینہ نے کہا: میرا خیال ہے اللہ جانتا ہے کہ تیرے لیے ایسی بات ہوگی جسے تو نہیں بھولے گا۔ اے بنو فزارہ! اللہ کی قسم یہ جھوٹا ہے، اپنا کام کرو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ہم نے کتاب قتال اہل البغی میں زہری سے روایت کیا ہے کہ طلیحہ نے اس موقع پر عکاشہ بن محصن اور ثابت بن اقرم کو قتل کیا، پھر جب حق غالب آ گیا تو اسلام لے آیا، عمرے کا احرام باندھا اور مدینہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اور ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ آپ نے اس سے قصاص لیا ہو یا اس پر دیت لازم کی ہو۔