السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في النهي عن التجسس باب: تجسس (دوسروں کے عیب ٹٹولنے) کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللهِ: هَلْ لَكَ فِي فُلَانٍ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا؟ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَتَجَسَّسَ، فَإِنْ يَظْهَرْ لَنَا نَأْخُذْهُ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ فلاں کی داڑھی سے شراب ٹپک رہی ہے، آپ نے دیکھا؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں جاسوسی سے منع کیا ہے، جب کوئی بات ظاہر ہو گی تو ہم اسے پکڑ لیں گے۔