السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في النهي عن التجسس باب: تجسس (دوسروں کے عیب ٹٹولنے) کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17623
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ، أَوْ عَثَرَاتِ النَّاسِ، أَفْسَدْتَهُمْ، أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ " قَالَ: يَقُولُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَعَهُ اللهُ بِهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو لوگوں کے عیب تلاش کرتا پھرے گا تو تو نے ان کو برباد کر دیا یا ان کو خراب کرنے کی کوشش کی۔“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے یہ کلمہ سنا کہ اللہ نے اسے اس کے ساتھ نفع دیا۔