السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الستر على أهل الحدود باب: حد والے جرائم کے مرتکب افراد پر پردہ ڈالنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17609
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، قَالَ: قِيلَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابوالہیثم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہمارا ایک پڑوسی ہے جو شراب پیتا ہے اور یہ یہ کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا: ”جو کسی کی پردے والی بات دیکھے اور اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے قبر سے زندہ درگور کو زندہ کر دیا۔“