السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في صفة السوط والضرب باب: کوڑے کی صفت اور مارنے کی کیفیت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17579
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ: إِنَّ الْقَاذِفَ لَا يُجْلَدُ جَلْدًا شَدِيدًا ".حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل عراق یہ کہتے تھے کہ حدِ قذف زیادہ سخت نہیں ماری جائے گی تو سعد کہنے لگے کہ جب سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو حد لگی تھی تو ان کی ماں نے ایک بکری ذبح کروائی تھی، پھر اس کی کھال کو ان کو پہنایا تھا، تو کیا یہ سخت مار نہیں تھی؟