السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: السلطان يكره على الاختتان أو الصبي وسيد المملوك يأمران به، وما ورد في الختان باب: حکمران کا ختنہ کرنے پر مجبور کرنا، یا نابالغ بچے (کا ولی) اور غلام کا آقا اس (ختنہ) کا حکم دیں، اور ختنے کے متعلق وارد شدہ دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17559
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ⦗٥٦٢⦘ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ خَاتِنَةً تَخْتِنُ فَقَالَ: " إِذَا خَتَنْتِ فَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ، وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک ختنہ کرنے والی عورت سے فرمایا: ”جب تو عورتوں کا ختنہ کرے تو حد سے نہ بڑھ کیونکہ یہ عورت کا حصہ ہے اور خاوند کے لیے باعثِ لذت ہے۔“