حدیث نمبر: 17552
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَلَا تَرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَنَّهُمْ غَلُّوا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَلَمْ يُعَاقِبْهُمْ، وَلَوْ كَانَتِ الْعُقُوبَةُ تَلْزَمُ لُزُومَ الْحَدِّ مَا تَرَكَهُمْ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَطَعَ امْرَأَةً لَهَا شَرَفٌ فَكُلِّمَ فِيهَا: لَوْ سَرَقَتْ فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ شَرِيفَةٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ پر کچھ لوگوں کے بارے میں ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے اللہ کی راہ (کے مال غنیمت) میں خیانت کی ہے، مگر آپ ﷺ نے انہیں سزا نہیں دی، اور اگر (تعزیری) سزا بھی حد کی طرح لازم ہوتی تو آپ ﷺ انہیں نہ چھوڑتے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک معزز (خاندان کی) عورت کا ہاتھ کاٹا اور اس کے بارے میں آپ ﷺ سے سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’اگر فلاں عورت، (یعنی) کسی معزز عورت نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘“

حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ شَوْذَبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً " أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى ثَلَاثًا، فَيَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُخَمَّسُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ وَقَدْ قُسِّمَتِ الْغَنِيمَةُ فَقَالَ: " هَلْ سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ؟ " فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: " كُنْ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو غنیمت کا مال ملا تو آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تین دفعہ منادی کر دو کہ جس کے پاس جو ہے سارا جمع کروا دو۔ لوگ لے آئے۔ پھر اس سے خمس نکالا تو اتنے میں ایک شخص لگام لایا جو بالوں سے بنائی گئی تھی۔ اس وقت تک غنیمت تقسیم ہو چکی تھی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے بلال کی منادی سنی تھی؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر پہلے کیوں نہیں لائے تھے؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میں اسے قبول نہیں کروں گا، قیامت کے دن تجھے یہ ادا کرنی پڑے گی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17552
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»