السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في عدد حد الخمر باب: شراب کی حد کی تعداد (کوڑوں کی مقدار) کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ عِنْدَهُ: " اضْرِبُوهُ " فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، قَالَ: وَحَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ التُّرَابَ، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَكْرَانَ، قَالَ: فَتَوَخَّى الَّذِي كَانَ مِنْ ضَرْبِهِمْ يَوْمَئِذٍ فَضَرَبَ أَرْبَعِينَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ وَبَرَةَ الْكَلْبِيِّ قَالَ: أَرْسَلَنِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَهُمْ مَعَهُ مُتَّكِئُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الْخَمْرِ وَتَحَاقَرُوا الْعُقُوبَةَ فِيهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُمْ هَؤُلَاءِ عِنْدَكَ، فَسَأَلَهُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَرَاهُ إِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَا افْتَرَى، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا قَالَ، قَالَ فَجَلَدَ خَالِدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ، وَجَلَدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا أُتِيَ بِالرَّجُلِ الضَّعِيفِ الَّتِي كَانَتْ مِنْهُ الزَّلَّةُ ضَرَبَهُ أَرْبَعِينَ، قَالَ: وَجَلَدَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ.سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حنین کے دن نبی ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، اتنے میں ایک نشے میں دھت شخص لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے فرمایا: ”اسے مارو۔“ تو جو کچھ ان کے ہاتھوں میں تھا اسی سے انہوں نے اسے مارا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر مٹی پھینکی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نشے والا لایا گیا تو انہوں نے اس دن کی مار کا اندازہ لگایا اور چالیس کوڑے مارے۔
زہری کہتے ہیں: پھر مجھے حمید بن عبدالرحمن نے ابن وبرہ کلبی سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس آیا تو ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم مسجد میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے کہا: خالد بن ولید نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور کہتے ہیں: لوگ شراب میں بہت منہمک ہو گئے ہیں اور اس کی سزا کو معمولی سمجھنے لگے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ تمہارے پاس موجود ہیں، پھر ان سے پوچھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہماری رائے ہے کہ جب وہ نشے میں ہوتا ہے تو بہکی باتیں کرتا ہے، اور جب بہکی باتیں کرتا ہے تو تہمت لگاتا ہے، اور تہمت لگانے والے پر 80 کوڑے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے جو کہا ہے وہ اپنے ساتھی کو پہنچا دو۔ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے 80 کوڑے مارے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی 80 کوڑے مارے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی کمزور آدمی لایا جاتا جس سے لغزش ہو گئی ہو تو اسے 40 کوڑے مارتے۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی 80 اور 40 دونوں طرح کوڑے مارے۔