السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في إقامة الحد في حال السكر أو حتى يذهب سكره باب: نشے کی حالت میں حد قائم کرنے، یا نشہ اتر جانے تک مؤخر کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17528
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا يُجْلَدُ السَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ.حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فقہائے اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے کو نشہ اترنے سے پہلے حد نہیں لگانی چاہیے۔