السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في إقامة الحد في حال السكر أو حتى يذهب سكره باب: نشے کی حالت میں حد قائم کرنے، یا نشہ اتر جانے تک مؤخر کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذَ الْجَرِّ بَعْدَ إِذْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَشْوَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَرِبْتُ خَمْرًا، إِنَّمَا شَرِبْتُ نَبِيذَ زَبِيبٍ وَتَمْرٍ فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ: " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، قَالَ: وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنِ الدُّبَّاءِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا میں مٹی کے گھڑے کی نبیذ نہیں پیتا، وہ بنشوان نامی آدمی تھا، اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے شراب نہیں بلکہ منقی اور کھجور کا «الدُّبَّاءُ» برتن میں نبیذ بنا کر پیا ہے“ تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ”اسے ہاتھوں اور جوتیوں سے مارا جائے“ اور پھر اس طرح نبیذ بنانے سے منع فرما دیا۔