حدیث نمبر: 17518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا، يَعْنِي الْخَمْرَ، وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَعُدُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ: حَسْبُكَ، " جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلِيَّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا لَا أَعْلَمُ لَهُ تَأْوِيلًا يَصِحُّ غَيْرَ أَنَّهُ قَبِلَ الشَّهَادَةَ عَلَيْهِ هَكَذَا، وَمَنْ يُخَالِفُهُ يَقُولُ: لَمْ تَجْتَمِعْ شَهَادَتُهُمَا عَلَى شُرْبِهِ، وَقَدْ يُكْرَهُ عَلَى الشُّرْبِ فَيَتَقَيَّأُهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي نَظِيرِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَغِيبِ الْمَعْنَى لَا يُحَدُّ فِيهِ أَحَدٌ وَلَا يُعَاقَبُ، إِنَّمَا يُعَاقَبُ النَّاسُ عَلَى الْيَقِينِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا، اس پر حمران اور ایک (دوسرے) شخص نے گواہی دی تھی کہ اس نے شراب پی ہے، دوسرے شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ اسے قے کرتے دیکھا تھا، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بغیر پیے تو قے آتی ہی نہیں ہے۔ اے علی! اسے حد لگاؤ۔“ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کہا تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو اس کی نرمی (عہدے کے فائدے) کا والی بنا ہے، اس کی سختی میں بھی وہی (ذمہ دار) ہے۔“ پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو کہا تو انہوں نے حد قائم کر دی، جب چالیس کوڑے پورے ہو گئے تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور کہا: ”نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۴۰ کوڑے لگائے ہیں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ۸۰، یہ سب سنت ہیں لیکن یہ (چالیس) مجھے زیادہ محبوب ہیں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک حد قائم نہ کی جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17518
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»