السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17509
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَشَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ، فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: " فَعَلَهَا "، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے شراب کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی لی اور اسے نشہ چڑھ گیا، وہ راستے میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا، لوگ اسے نبی ﷺ کے پاس لے کر جا رہے تھے کہ اسے ہوش آگیا۔ جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے گزرا تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے چمٹ گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ کو بتائی گئی تو آپ ﷺ مسکرائے اور پوچھا: ”کیا واقعی اس نے ایسا کیا؟“ اور آپ ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔