السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: من أقيم عليه الحد أربع مرات ثم عاد له باب: جس شخص پر چار مرتبہ حد قائم کی گئی ہو اور وہ پھر اسی (گناہ) کا اعادہ کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17505
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ ⦗٥٤٥⦘ إِذَا شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ " فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَجَلَدَهُ، فَرَفَعَ الْقَتْلَ عَنِ النَّاسِ، وَكَانَتْ رُخْصَةً فَثَبَتَتْ.حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن زؤیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شرابی کو تین مرتبہ تک کوڑے مارو، چوتھی مرتبہ پیے تو قتل کر دو۔“ ایک شخص کو نبی ﷺ نے چوتھی مرتبہ بھی کوڑے مارے تو لوگوں سے قتل اٹھ گیا۔ کوڑے ثابت ہیں اور قتل میں رخصت مل گئی۔