السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الأوعية باب: (نبیذ بنانے والے) برتنوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُنْتَبَذُ لَهُ ⦗٥٣٨⦘ فِي جَرَّةٍ، فَقَدِمَ أَبُو بَرْزَةَ مِنْ غَيْبَةٍ كَانَ غَابَهَا فَنَزَلَ بِمَنْزِلِ أَبِي بَكْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِنْكَارِ مَا نُبِذَ لَهُ فِي جَرَّةٍ، وَقَوْلِهِ لِامْرَأَتِهِ: وَدِدْتُ أَنَّكِ جَعَلْتِيهِ فِي سِقَاءٍ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حِينَ جَاءَ قَالَ: قَدْ عَرَفْنَا الَّذِي نُهِينَا عَنْهُ، نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ، فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَإِنَّا مَعْشَرَ ثَقِيفٍ بِالطَّائِفِ، كُنَّا نَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَنَخْرِطُ فِيهَا عَنَاقِيدَ الْعِنَبِ، ثُمَّ نَدْفِنُهَا، ثُمَّ نَتْرُكُهَا حَتَّى تَهْدُرَ ثُمَّ تَمُوتُ، وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْيَمَامَةِ كَانُوا يَنْقِرُونَ أَصْلَ النَّخْلَةِ فَيَشْدَخُونَ فِيهِ الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ حَتَّى يَهْدُرَ ثُمَّ يَمُوتُ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ كَانَ يُحْمَلُ إِلَيْنَا فِيهَا الْخَمْرُ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهِيَ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ الَّتِي فِيهَا هَذَا الزِّفْتُ قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَدْ قَالَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّ الْمَعْنَى فِي النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ أَنَّ النَّبِيذَ فِيهَا يَكُونُ أَسْرَعَ إِلَى الْفَسَادِ وَالِاشْتِدَادِ حَتَّى يَصِيرَ مُسْكِرًا، وَهُوَ فِي الْأَسْقِيَةِ أَبْعَدُ مِنْهُ، ثُمَّ وَرَدَتِ الرُّخْصَةُ فِي الْأَوْعِيَةِ كُلِّهَا إِذَا لَمْ يَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.جوشن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مٹی کے گھڑے میں نبیذ بنایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس آئے اور اپنے گھر جانے سے پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے آئے۔ انہوں نے مٹی کے مٹکے کی ممانعت کی حدیث بیان کی اور ان کی بیوی کو کہا کہ مجھے امید ہے کہ آئندہ آپ پینے والے برتنوں میں ہی نبیذ بنائیں گی۔ جب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا کہ جن برتنوں سے منع فرمایا ہے وہ ہم جانتے ہیں، آپ ﷺ نے ”«الدُّبَّاءُ»، «النَّقِيرُ»، «الْحَنْتَمُ» اور «الْمُزَفَّتُ»“ سے منع فرمایا ہے۔ «الدُّبَّاءُ»: ہم اہل ثقیف بڑے کدو کے بیج نکال کر اس میں انگور ڈال کر زمین میں دفنا دیتے تھے اور جب اس میں جوش پیدا ہو جاتا تو انہیں نکال کر مسل لیتے تھے اور «النَّقِيرُ» اہل یمامہ کا برتن ہے کہ وہ کھجور کی جڑ کو درمیان سے کھوکھلی کر کے اس میں تر اور کچی کھجور ملا کر چھوڑ دیتے تھے حتیٰ کہ ان میں جوش پیدا ہو جاتا، پھر ان کو پیس لیتے اور «الْحَنْتَمُ» مٹکے میں ہمیں شراب دی جاتی اور «الْمُزَفَّتُ» تارکول کے برتن کو کہتے ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور اہل علم میں سے ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان برتنوں میں منع اس لیے کیا تھا کہ ان میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا ہے اور دوسرے برتنوں میں دیر سے اور ان برتنوں کے استعمال میں رخصت بھی ہے کہ جب نشہ پیدا ہونے سے پہلے چیز استعمال کر لی جائے۔