حدیث نمبر: 17423
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ، وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ، فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟ قَالَ: " إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى رَسُولِهِ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: " زَبِّبُوهَا "، قُلْنَا: مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ: " انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ ⦗٥٢٢⦘ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ، وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن دیلمی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ جانتے ہیں ہم کون ہیں، کہاں سے ہیں اور کس کے پاس آئے ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کی طرف۔“ تو ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے انگور ہوتے ہیں، ہم ان کا کیا کریں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”منقہ بنا لو۔“ ہم نے کہا: ”منقہ کا کیا کریں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح نبیذ بنا کر شام کو پی لو اور شام کو بنا کر صبح پی لو اور چھوٹے برتنوں میں نبیذ بناؤ۔ بڑے بڑے مٹکوں میں نہ بنانا؛ کیونکہ اگر تم اس میں چھوڑ دو گے تو اس میں نشہ پیدا ہو جائے گا جو حرام ہو گا اور اگر نشہ نہ ہو تو سرکہ بن جائے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17423
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»