السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17417
وَأَمَّا الصِّفَةُ فَفِيمَا حَدَّثَنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ: سَلْ هَذِهِ، إِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ الْحَبَشِيَّةُ: كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ لَفْظُ حَدِيثِ شَيْبَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ.حافظ ثناء اللہ
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک حبشی لونڈی کو بلایا اور فرمایا: اس سے پوچھو، یہ نبی ﷺ کے لیے نبیذ بنایا کرتی تھی، تو وہ لونڈی کہنے لگی کہ میں نبی ﷺ کے لیے سقاء میں نبیذ رات کو بنایا کرتی تھی اور نبی ﷺ صبح پیا کرتے تھے۔