السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تحريم الخمر باب: شراب کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ، إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ، فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِشَهَادَةٍ، فَدَخَلَ مَعَهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ، حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَاللهِ مَا دَعَوْتُكَ لِشَهَادَةٍ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَيَّ، أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ، أَوْ تَشْرَبَ الْخَمْرَ، فَسَقَتْهُ كَأْسًا، فَقَالَ: زِيدُونِي، فَلَمْ يَرُمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا لَا تَجْتَمِعُ هِيَ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا أَوْشَكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ ".سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم شراب سے بچو، یہ شراب خبیث چیزوں کی ماں ہے۔ تم سے پہلے ایک آدمی عبادت کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پسند کر لیا اور اس کی طرف اپنی لونڈی کو بھیجا کہ ہم آپ کو شہادت (گواہی) کے لیے بلا رہے ہیں۔ وہ آ گیا تو جب وہ دروازوں میں داخل ہوا تو وہ تمام دروازے بند کرتی گئی اور اس نے کہا: میں نے تمہیں شہادت کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ ان تین کاموں میں سے ایک کام کر لو؛ یا میرے ساتھ زنا یا اس بچے کو قتل یا شراب پی لو۔ تو اس نے شراب پی لی اور جب بہت زیادہ پی لی تو زنا بھی کر بیٹھا اور بچے کو بھی قتل کر دیا؛ لہٰذا شراب سے بچو کیونکہ ایمان اور شراب اکٹھے نہیں ہو سکتے۔