السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تحريم الخمر باب: شراب کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَرْبَعِ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: " وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَدَعَانَا فَشَرِبْنَا الْخَمْرَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ حَتَّى انْتَشَيْنَا فَتَفَاخَرْنَا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ أَفْضَلُ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَحْنُ أَفْضَلُ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَحْىَ جَزُورٍ فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْخَمْرِ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ} [المائدة: ٩٠]، إِلَى قَوْلِهِ: {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: ٩١] " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شراب کی حرمت میں چار آیتیں نازل ہوئیں، جن کا ذکر حدیث میں گزر چکا ہے۔ ایک آدمی نے انصار میں سے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلایا، پھر ہم نے شراب کی حرمت سے پہلے شراب پی، یہاں تک کہ ہم نشے میں مدہوش ہو گئے، پھر ہم نے فخر کیا، انصار نے کہا: ہم زیادہ فضیلت والے ہیں اور قریش نے کہا: ہم زیادہ فضیلت والے ہیں۔ انصار میں سے ایک آدمی نے داڑھی کے نیچے سے پکڑا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مارا جس سے ان کی ناک پھٹ گئی، تو پھر شراب کے بارے میں آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ...﴾ الی قولہ ﴿فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ﴾ [سورة المائدة: 90-91]۔