السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: الردء لا يقتل باب: ڈاکوؤں کے مددگار (جو صرف نگرانی کے لیے ہو اس) کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17318
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ أُنَاسًا فِي حِرَابَةٍ وَلَمْ يَقْتُلُوا، فَأَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ أَوْ يَقْطَعَ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ لَوْ أَخَذْتَ بِأَيْسَرَ ذَلِكَ " وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: إِنَّهُ قَتَلَ أَحَدَهُمْ، وَقَالَ فِي جَوَابِهِ: " فَهَلَّا إِذَا تَأَوَّلْتَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ وَرَأَيْتَ أَنَّهُمْ أَهْلُهَا أَخَذْتَ بِأَيْسَرَ ذَلِكَ، وَأَنْكَرَ الْقَتْلَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ایک عامل نے ڈاکوؤں کو پکڑا اور چاہا کہ انھیں قتل کر دے، لیکن پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا تو انھوں نے جواب دیا: ان کے ساتھ اس سے آسان معاملہ کرو اور قتل سے روک دیا۔