السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا رَأْيٌ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْمِجَانُّ قَدِيمًا وَحَدِيثًا سَلْعٌ يَكُونُ ثَمَنَ عَشَرَةٍ وَمِائَةٍ وَدِرْهَمَيْنِ، فَإِذَا قَطَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ قَطَعَ فِي أَكْثَرَ مِنْهُ، وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ لَيْسَ مِمَّنْ تُقْبَلُ رِوَايَتُهُ، وَتَتْرُكُ عَلَيْنَا سُنَنًا رَوَاهَا تُوَافِقُ أَقَاوِيلَنَا، وَتَقُولُ: غَلِطَ، فَكَيْفَ تَرُدُّ رِوَايَتَهُ مَرَّةً، ثُمَّ تَحْتَجُّ بِهِ عَلَى أَهْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ، مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَرْوِ شَيْئًا يُخَالِفُ قَوْلَنَا؟.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عمرو بن شعیب کی روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، اور «مِجَنٌّ» (ڈھالیں) پرانے اور نئے زمانے میں ایسا سامان رہا ہے جس کی قیمت دس، سو اور دو درہم (مختلف) ہوتی ہے۔ جب نبی ﷺ نے ربع دینار میں ہاتھ کاٹا ہے تو پھر اس سے زیادہ میں بھی کاٹا جائے گا۔ اور تمہارا گمان ہے کہ عمرو بن شعیب ان لوگوں میں سے نہیں جن کی روایت قبول کی جائے، اور تم ان کی روایت کردہ ایسی سنتیں ہمارے خلاف چھوڑ دیتے ہو جو ہمارے اقوال کے موافق ہیں اور کہتے ہو کہ انہوں نے غلطی کی، تو پھر تم کیسے ایک بار ان کی روایت رد کرتے ہو اور پھر اہلِ حفظ و صدق کے مقابلے میں انہی سے دلیل پکڑتے ہو، حالانکہ انہوں نے ہمارے قول کے خلاف کوئی چیز روایت نہیں کی؟