السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17178
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا رَأْيٌ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْمِجَانُّ قَدِيمًا وَحَدِيثًا سَلْعٌ يَكُونُ ثَمَنَ عَشَرَةٍ وَمِائَةٍ وَدِرْهَمَيْنِ، فَإِذَا قَطَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ قَطَعَ فِي أَكْثَرَ مِنْهُ، وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ لَيْسَ مِمَّنْ تُقْبَلُ رِوَايَتُهُ، وَتَتْرُكُ عَلَيْنَا سُنَنًا رَوَاهَا تُوَافِقُ أَقَاوِيلَنَا، وَتَقُولُ: غَلِطَ، فَكَيْفَ تَرُدُّ رِوَايَتَهُ مَرَّةً، ثُمَّ تَحْتَجُّ بِهِ عَلَى أَهْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ، مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَرْوِ شَيْئًا يُخَالِفُ قَوْلَنَا؟.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی رائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی ہے، عمرو بن شعیب والی حدیث میں اور «مِجَنٌّ» ایک سامان ہے جس کی قیمت 112 درہم بنتی ہے۔ جب نبی ﷺ نے ربع دینار میں ہاتھ کاٹا ہے تو پھر اس سے زیادہ میں بھی کاٹا جائے گا اور آپ کا یہ گمان کہ عمرو بن شعیب کی روایات قبول نہیں اور تم ایسی روایات چھوڑ دیتے ہو جو ہمارے اقوال کے موافق ہوں، آپ غلط بات کرتے ہیں، تو پھر کیسے دوبارہ ان کی روایت کو رد کرو گے؟ پھر تم انہیں اہل صدق و حفظ سے یاد کرو گے ساتھ اس کے کہ وہ ہمارے قول کے خلاف کوئی روایت نہیں کرتا۔