السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17169
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " ⦗٤٤٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی ﷺ نے ایک مرد کا ہاتھ کاٹا، اس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چوری کی تھی اور اس کی قیمت تین دراہم تھی۔