السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يجب فيه القطع باب: ان صورتوں کا بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 17166
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ يَدَ السَّارِقِ، لَمْ تُقْطَعْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ، وَأَنَّ يَدَ السَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ " وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي رَوَاهُ مَنْ وَصَلَهُ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ، وَكُلُّ مَنْ رَوَاهُ مَوْصُولًا حُفَّاظٌ أَثْبَاتٌ، وَهَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ، فَقَدْ رَوَاهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمَيَّزَ كَلَامَ عُرْوَةَ، مِنْ كَلَامِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا جحفہ اور ترس (یہ ڈھال کے نام ہیں) کی قیمت سے کم میں اور ان میں سے ہر ایک قیمتی ہے۔
اور نبی ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ کسی تھوڑی سی چیز میں نہیں کاٹا جاتا تھا۔