السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يجب فيه القطع باب: ان صورتوں کا بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: أُتِيتُ بِنَبَطِيٍّ قَدْ سَرَقَ، فَبَعَثَتْ إِلِيَّ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَيْ بُنِيَّ إِنْ لَمْ يَكُنْ بَلَغَ رُبْعَ دِينَارٍ فَلَا تَقْطَعْهُ، فَإِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْنِي، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقْطَعُ فِي دُونِ رُبْعِ دِينَارٍ "، قَالَ: فَنَظَرَ فَإِذَا سَرِقَتُهُ بَلَغَتْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: فَضَرَبْتُهُ وَغَرَّمْتُهُ وَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ.حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک نبطی کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی، تو میرے پاس حضرت عمرہ بنت ابی بکر رحمہا اللہ نے یہ پیغام بھیجا کہ اے بیٹے! اگر اس کی چوری دینار کے چوتھے حصہ کی مالیت کو نہ پہنچے تو اس کا ہاتھ مت کاٹنا؛ کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”دینار کے چوتھے حصہ سے کم کی مالیت میں ہاتھ مت کاٹا جائے۔“ فرماتے ہیں کہ اس کی چوری تو دو درہم کی مالیت کے برابر تھی، تو میں نے اس کو مارا اور جرمانہ ڈالا اور اس کو چھوڑ دیا۔
محمد بن اسحاق مدلس ہے اور اس نے صراحت نہیں کی، لیکن یہ حدیث مرفوعاً بھی گزر چکی ہے۔