❮
❯
حدیث نمبر: 16529
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِي، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ سَكَنَّا دَارَنَا هَذِهِ وَنَحْنُ كَثِيرٌ فَهَلَكْنَا، وَحَسَنٌ ذَاتُ بَيْنِنَا فَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا، وَكَثُرَتْ أَمْوَالُنَا فَافْتَقَرْنَا، فَقَالَ: " أَفَلَا تَنْتَقِلُونَ عَنْهَا، ذَمِيمَةً "، قَالَتْ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " تَبِيعُونَهَا أَوْ تَهَبُونَهَا " هَذَا مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَهُمْ بِتَرْكِهَا إِبْطَالًا لِمَا وَقَعَ فِي نُفُوسِهِمْ، فَإِذَا تَحَوَّلُوا عَنْهَا انْقَطَعَ مَادَّةُ ذَلِكَ الْوَهْمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن شداد بن ہاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! ہم اپنے اس گھر میں آ کر رہے تو ہم بہت تھے، پھر ہم ہلاک ہو گئے، ہمارے آپس کے تعلقات اچھے تھے پھر ہمارے اخلاق بگڑ گئے، اور ہمارے مال بہت تھے پھر ہم محتاج ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے چھوڑ کر منتقل نہیں ہو جاتے، یہ برا گھر ہے۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! پھر ہم اس کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بیچ دو یا ہبہ کر دو۔“ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ ان کو اس لیے چھوڑنے کا کہا ہو کہ ان کے دلوں میں کوئی غلط بات نہ آئے، جب وہ چلے جائیں گے تو وہم ختم ہو جائے گا۔
یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16529
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»