السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: العيافة والطيرة والطرق باب: عیافہ (پرندوں کی اڑان یا آواز سے فال نکالنا)، طیرہ (بدشگونی لینا) اور طرق (زمین پر لکیریں کھینچ کر فال نکالنا) کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 16522
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ، وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ بِهَا، وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کبھی بھی بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے۔ جب بھی کسی کو عامل بنا کر بھیجتے اس کا نام پوچھتے، اگر نام اچھا لگتا تو خوش ہوتے تو آپ ﷺ کے چہرے سے خوشی نظر آتی۔ اگر نام برا لگتا تو آپ ﷺ کے چہرے سے بھی کراہت ظاہر ہوتی اور جب کسی علاقے میں جاتے تو اس کے نام کے بارے میں پوچھتے، اگر اچھا لگتا تو خوشی آپ ﷺ کے چہرے سے پہچانی جاتی۔ اگر برا لگتا تو کراہت آپ ﷺ کے چہرے سے ظاہر ہوتی۔