السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن الكهانة وإتيان الكاهن باب: کہانت (غیب دانی کا دعویٰ کرنے) اور کاہن کے پاس جانے کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أُرَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: بَيْنَا هُمْ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا "، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالُوا: كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، مَاتَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهَا لَا تُرْمَى لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَهُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ فَيَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُم بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَيَخْطَفُ الْجِنَّ السَّمْعَ فَيُلْقُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ فِيهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے بعض انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ مارا گیا اور وہ روشن ہوا تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”جب جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟“ کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں لیکن ہم جاہلیت میں یہ سمجھا کرتے تھے کہ آج کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے اور ایک عظیم آدمی فوت ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کسی کی زندگی اور موت کے لیے نہیں مارے جاتے بلکہ جب ہمارا رب کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو حاملینِ عرش «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے ہیں، پھر باری باری تمام آسمان والے تسبیح کہتے ہیں۔ پھر پہلے آسمان والے حاملینِ عرش سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ تو وہ انھیں بتاتے ہیں اور پھر چلتی چلتی یہ بات آسمانِ دنیا تک پہنچتی ہے تو جن اس سے کچھ بات سن لیتے ہیں اور اس میں جھوٹ ملا کر اپنے اولیاء کو بتا دیتے ہیں اور کاہنوں کی جو بات سچ ہوتی ہے وہ وہی حق بات ہوتی ہے۔“