السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن الكهانة وإتيان الكاهن باب: کہانت (غیب دانی کا دعویٰ کرنے) اور کاہن کے پاس جانے کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَإِنَّ اللهَ جَاءَ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: " ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ "، قُلْتُ: وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ، قَالَ: " فَلَا يَأْتُوهُمْ، قُلْتُ: وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ، قَالَ: " قَدْ كَانَ نَبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " ⦗٢٣٨⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيّ.سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے تین احادیث بیان کیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نئے نئے جاہلیت سے نکلے ہیں اور اللہ نے اسلام عطا فرمایا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک چیز ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، یہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔“ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ان کے پاس نہ جائیں۔“ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ (ریت پر) لکیریں کھینچتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیر ان کی لکیر کے موافق ہو جائے تو وہ (درست) ہے۔“