السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: لا يرث القاتل باب: قاتل کو وراثت نہ ملنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنَانَةَ يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ أَمَرَ ابْنًا لَهُ بِبَعْضِ الْأَمْرِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَأَقْتُلَنَّ قَتَادَةَ، فَأَتَاهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ، وَإِنَّمَا كَانَتْ بَادِرَةً مِنْهُ فِي غَضَبٍ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى ذَهَبَ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْقَنِي بِقُدَيْدٍ بِعِشْرِينَ وَمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَفَعَلَ، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً خَلِفَةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا، ثُمَّ قَالَ لِقَتَادَةَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ لَوَرَّثْتُكَ مِنْهُ " ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ. هَذِهِ مَرَاسِيلُ يُؤَكِّدُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ مَوْصُولَةٍ وَمُرْسَلَةٍ فِي كِتَابِ الْفَرَائِضِ.عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنانہ کے ایک قتادہ نامی آدمی نے کسی وجہ سے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، اس کا پاؤں کٹ گیا اور وہ مر گیا۔ یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلی تو کہا کہ میں ضرور قتادہ کو قتل کروں گا، تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اس نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بات سمجھ آگئی تو فرمایا: اسے کہو کہ ١٢٠ اونٹ لائے، تو وہ لے آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے ٣٠ «حِقَّة» ”حقے“، ٣٠ «جَذَعَة» ”جذعے“ اور ٤٠ «ثَنِيَّة» ”ثنیہ“ اونٹ لیے اور قتادہ کو کہا کہ اگر میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ ”قاتل کے لیے میراث نہیں ہے“ تو میں تجھے وارث بناتا۔ پھر مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے دیت دے دی۔