السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: في الغرة عبد أو أمة أو فرس أو بغل، أو كذا وكذا من الشاء، وليس بمحفوظ باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک غرہ (جنین کی دیت) میں غلام، لونڈی، گھوڑا، خچر، یا اتنی اتنی بکریاں ہیں، حالانکہ یہ موقف محفوظ (مستند) نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كَذَا الْحَدِيثُ خَمْسُمِائَةٍ، وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَأَبِي قِلَابَةَ وَأَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالُوا: وَقَضَى، فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ مِائَةٌ مِنَ الشَّاءِ، وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرَوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے پتھر مار کر دوسری کا حمل ساقط کر دیا تو نبی ﷺ نے ”بچے کے بدلے ۵۰۰ بکریوں کا فیصلہ سنایا“ اور آئندہ پتھر مارنے سے اس دن منع کر دیا۔
ابوداؤد میں بھی ۵۰۰ کا ذکر ہے لیکن صحیح ۱۰۰ بکریاں ہیں۔ شیخ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قصے کے بارے میں ابوملیح رضی اللہ عنہ کی بھی نبی ﷺ سے ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے جنین کے بارے میں ”غلام یا لونڈی یا ۱۰۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔ یہ مرسل ہے اور ابوملیح رضی اللہ عنہ کی ضعیف سند سے بھی ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ”غلام یا لونڈی یا ۱۲۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔