السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: في الغرة عبد أو أمة أو فرس أو بغل، أو كذا وكذا من الشاء، وليس بمحفوظ باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک غرہ (جنین کی دیت) میں غلام، لونڈی، گھوڑا، خچر، یا اتنی اتنی بکریاں ہیں، حالانکہ یہ موقف محفوظ (مستند) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16417
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ فِي الْمَرْأَةِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ كَذَا رَوَاهُ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ طَاوُسٍ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ طلب کیا، پھر مکمل روایت بیان کی اور کہا کہ نبی ﷺ نے جنین اور عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا اور جنین کے بدلے ”غلام یا لونڈی یا گھوڑے“ کا فیصلہ فرمایا۔