حدیث نمبر: 16414
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا فَضَرَبَتْهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا وَذَا بَطْنِهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ: أَنَغْرَمُ بِدِيَةِ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ " وَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے دوسری کو خیمے کی میخ سے مارا اور اسے قتل کر دیا اور حمل ضائع کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کی دیت عورت کے عصبہ پر اور بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو ایک شخص قاتلہ عورت کے عصبہ سے کہنے لگا: جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ کھایا، نہ پیا، اس کی دیت کیسے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس طرح سجع عبارت بنا رہا ہے جیسے دیہاتی شعراء“ اور ان پر دیت برقرار رکھی۔