السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في عقل الفقير باب: فقیر شخص کی دیت کی ادائیگی کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَزَوَّجَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ امْرَأَتَيْنِ، إِحْدَاهُمَا مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَالْأُخْرَى مِنْ بَنِي لِحْيَانَ، فَضُرِبَتِ الَّتِي مِنْ بَنِي لِحْيَانَ فَمَاتَتْ، وَأَلْقَتْ جَنِينًا، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى أَبِيهَا، فَقَالَ: عَقْلُ امْرَأَتِي وَابْنِي، فَقَالَ أَبُوهَا: إِنَّمَا يَعْقِلُهَا بَنُوهَا وَهُمْ سَادَةُ بَنِي لِحْيَانَ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " الدِّيَةُ عَلَى الْعَصَبَةِ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " فَقَالَ الْوَلِيُّ حِينَ قَضَى عَلَيْهِ بِالْجَنِينِ: مَا وُضِعَ فَحَلَّ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَأَبْطِلْهُ، فَمِثْلُهُ حَقُّ مَا بَطَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ؟ " فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ شَاعِرٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَهُ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ، فَقَالَ: " عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَهُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْ يُعِينَهُ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَدَقَةِ بَنِي لِحْيَانَ، فَأَعَانَهُ بِهَا فَسَعَى حَمَلٌ عَلَيْهَا حَتَّى اسْتَوْفَاهَا.ابوملیح ہذلی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ نے دو عورتوں سے شادی کی۔ ان میں سے ایک بنو معاویہ سے اور دوسری بنو لحیان سے تھی۔ بنو لحیان کی عورت کو دوسری نے مارا، وہ مر گئی اور اس کا بچہ بھی ساقط ہو گیا، تو حمل بن مالک اس کے باپ کے پاس آیا اور اپنی بیوی اور بچے کی دیت طلب کی، تو اس کا والد کہنے لگا کہ اس کی دیت اس کے بیٹے ادا کریں گے، اور وہ بنو لحیان کے سردار ہیں۔ جھگڑا نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عصبہ دیت ادا کریں اور مسقوط بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دیں۔“ ولی کہنے لگا کہ جو پیدا نہیں ہوا، نہ چیخا نہ چلایا، اس کی دیت کیسی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جاہلیت کی طرح واویلا کر رہا ہے؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ شاعر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے پاس نہ تو غلام ہے اور نہ لونڈی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر دس اونٹ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں، الا یہ کہ رسول اللہ ﷺ بنو لحیان کے صدقہ سے اس کی مدد فرمائیں۔ تو آپ ﷺ نے اس کی مدد فرمائی اور حمل اسے وصول کرتے رہے حتیٰ کہ پوری وصول کر لی۔