السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : من العاقلة التي تغرم؟ باب: وہ عاقلہ کون ہیں جو دیت کا تاوان ادا کریں گے؟
حدیث نمبر: 16377
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الزُّبَيْرَ، وَعَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، اخْتَصَمَا فِي مَوَالٍ لِصَفِيَّةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِالْمِيرَاثِ لِلزُّبَيْرِ وَالْعَقْلِ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَيُذْكَرُ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي جِنَايَةٍ جَنَاهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا قَسَمْتَ الدِّيَةَ عَلَى بَنِي أَبِيكَ قَالَ: فَقَسَمَهَا عَلَى قُرَيْشٍ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سیدہ صفیہ کے آزاد کردہ غلاموں کے بارے میں جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے میراث کا فیصلہ زبیر کے حق میں اور دیت کا فیصلہ علی رضی اللہ عنہما پر کیا۔
حسن بصری رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک جرم کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم یہ دیت اپنے باپ کی اولاد پر تقسیم کرو۔“ کہتے ہیں: تو انہوں نے اسے قریش پر تقسیم کیا۔