السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : من العاقلة التي تغرم؟ باب: وہ عاقلہ کون ہیں جو دیت کا تاوان ادا کریں گے؟
حدیث نمبر: 16375
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”عورت (کے جرم) کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں، جو اس کی میراث میں سے صرف وہی لیتے ہیں جو اس کے ورثاء سے بچ جائے۔ اور اگر وہ قتل کر دی جائے تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان ہے اور وہ اس کے قاتل کو قتل کر دیں۔“