السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : من العاقلة التي تغرم؟ باب: وہ عاقلہ کون ہیں جو دیت کا تاوان ادا کریں گے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ الْقَاتِلَةِ، وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، فَقَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ: مِيرَاثُهَا لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا " وَكَانَتْ حُبْلَى فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا، فَخَافَتْ عَاقِلَةُ الْقَاتِلَةِ أَنْ يُضَمِّنَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا سَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ " فَقَضَى، فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ،.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کا خاوند اور بیٹا بھی تھا تو نبی کریم ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ ابوی پر مقرر کی اور خاوند اور بیٹے کو بری کر دیا، مقتولہ کے عاقلہ (عصبہ) کہنے لگے: میراث ہمیں ملے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میراث خاوند اور بیٹے کی ہے۔“ وہ مقتولہ عورت حاملہ تھی، اس کا بچہ بھی ساقط ہو گیا، قاتلہ کے عصبہ ڈر گئے کہ اس کی بھی دیت دینی ہو گی، وہ کہنے لگے: نہ اس نے کھایا، نہ پیا، نہ بولا، نہ چیخا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جاہلیت کی باتیں ہیں“ پھر آپ ﷺ نے اس بچے کے بدلے بھی ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا۔