السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: جناية الغلام يكون للفقراء باب: اس غلام کے جرمانے کا بیان جو فقراء کی ملکیت ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ كَانَ الْمُرَادُ بِالْغُلَامِ الْمَذْكُورِ فِيهِ الْمَمْلُوكَ فَإِجْمَاعُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ جِنَايَةَ الْعَبْدِ فِي رَقَبَتِهِ يَدُلُّ وَاللهُ أَعْلَمُ عَلَى أَنَّ الْجِنَايَةَ كَانَتْ خَطَأً، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا لَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ الْتَزَمَ أَرْشَ جِنَايَتِهِ فَأَعْطَاهُ مِنْ عِنْدِهِ مُتَبَرِّعًا بِذَلِكَ وَقَدْ حَمَلَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى أَنَّ الْجَانِيَ كَانَ حُرًّا، وَكَانَتِ الْجِنَايَةُ خَطَأً، وَكَانَ عَاقِلَتُهُ فُقَرَاءَ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، إِمَّا لِفَقْرِهِمْ، وَإِمَّا لِأَنَّهُمْ لَا يَعْقِلُونَ الْجِنَايَةَ الْوَاقِعَةَ عَلَى الْعَبْدِ إِنْ كَانَ الْمَجْنِيُّ عَلَيْهِ مَمْلُوكًا وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ يَكُونُ الْجَانِي غُلَامًا حُرًّا غَيْرَ بَالِغٍ، وَكَانَتْ جِنَايَتُهُ عَمْدًا، فَلَمْ يَجْعَلْ أَرْشَهَا عَلَى عَاقِلَتِهِ، وَكَانَ فَقِيرًا فَلَمْ يَجْعَلْهُ فِي الْحَالِ عَلَيْهِ، أَوْ رَآهُ عَلَى عَاقِلَتِهِ فَوَجَدَهُمْ فُقَرَاءَ فَلَمْ يَجْعَلْهُ عَلَيْهِ لِكَوْنِ جِنَايَتِهِ فِي حُكْمِ الْخَطَأِ، وَلَا عَلَيْهِمْ لِكَوْنِهِمْ فُقَرَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غریبوں کے غلام نے امیروں کے غلام کا کان کاٹ دیا تو اس کے اہل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم غریب لوگ ہیں، تو آپ ﷺ نے ان پر کچھ نہ رکھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر مذکورہ غلام سے مراد مملوک ہے تو اہل علم کا اجماع ہے کہ غلام کا جرم اسی کی گردن میں ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا یہ جرم غلطی سے تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر کوئی چیز نہیں رکھی اور اپنی طرف سے تبرعاً ادا کر دیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجرم آزاد تھا اور اس سے یہ غلطی ہوئی تھی تو اس کے عاقلہ رشتہ دار فقیر تھے، تو آپ ﷺ نے اس لیے ان پر کچھ نہ رکھا۔ پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غلام کے سرزد شدہ جرم پر دیت دینا نہیں چاہتے تھے، جب کہ مجرم مملوک تھا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے“۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجرم آزاد نابالغ بچہ تھا اور یہ اس کا جرم عمداً تھا تو عاقلہ پر اس کی دیت پڑتی ہی نہیں ہے اور وہ خود فقیر تھا اس لیے اس سے نہیں لی۔