السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: دية أهل الذمة باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کی پناہ میں رہنے والے غیر مسلموں) کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16339
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَرْسَلْنَا إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، نَسْأَلُهُ عَنْ دِيَةِ الْمُعَاهِدِ، فَقَالَ: قَضَى فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: فَمَنْ قَبْلَهُ؟ قَالَ: فَحَصَبَنَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوهُ آخِرًا ⦗١٧٦⦘ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ، وَهُوَ عَنْهُ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالْآخَرُ مُنْقَطِعٌ، قَدْ ذَكَرْنَاهُمَا فِي بَابِ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ.حافظ ثناء اللہ
صدقہ بن یسار کہتے ہیں کہ ہم نے ابن مسیب سے ذمی کی دیت کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں 4000 درہم کا فیصلہ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے ان سے دوسرا سوال کیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کا خلاف بھی منقول ہے، لیکن وہ صحیح نہیں اور یہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ”مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“