السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : الأصابع كلها سواء باب: تمام انگلیاں (دیت کے حکم میں) برابر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16286
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَصَابِعِ: فِي الْإِبْهَامِ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ، وَفِي الَّتِي تَلِيهَا بِاثْنَيْ عَشَرَ، وَفِي الْوُسْطَى بِعَشَرَةٍ، وَفِي الَّتِي تَلِيهَا بِتِسْعٍ، وَفِي الْخِنْصَرِ بِسِتٍّ، حَتَّى وُجِدَ كِتَابٌ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَذْكُرُونَ أَنَّهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَفِيمَا هُنَالِكَ مِنَ الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " قَالَ سَعِيدٌ: فَصَارَتِ الْأَصَابِعُ إِلَى عَشْرٍ عَشْرٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انگلیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا: انگوٹھے میں 13 اونٹ، اس کے ساتھ والی میں 12، درمیان والی میں 10، اس کے ساتھ والی میں 9 اور چھنگلی میں 6۔
یہاں تک کہ آلِ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے پاس نبی ﷺ کا وہ خط ملا جس میں ”تمام انگلیوں میں 10، 10 اونٹ“ کا ذکر تھا، تو سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر فیصلہ اسی خط کے مطابق کر دیا گیا۔