السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : الأسنان كلها سواء باب: اس امر کا بیان کہ تمام دانت دیت میں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 16265
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، بَعَثَهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ لِيَسْأَلَهُ: مَاذَا فِي الضِّرْسِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فِيهِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، قَالَ: فَرَدَّنِي إِلَيْهِ مَرْوَانُ، قَالَ: أَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الْأَضْرَاسِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ لَمْ يُعْتَبَرْ ذَلِكَ إِلَّا بِالْأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا كَمَا قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَالدِّيَةُ الْمُوَقَّتَةُ عَلَى الْعَدَدِ لَا عَلَى الْمَنَافِعِ.حافظ ثناء اللہ
ابوغطفان بن طریف مری کہتے ہیں کہ مجھے مروان بن حکم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس داڑھ کی دیت پوچھنے بھیجا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں پانچ اونٹ ہیں۔ مجھے پھر بھیجا کہ پوچھو کہ کیا ثنیہ دانت اور داڑھ کو آپ برابر سمجھتے ہیں؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ صرف یہی نہیں انگلیاں بھی تمام برابر ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ان شاء اللہ صحیح ہے۔ دیت تعداد کے لحاظ سے مقرر ہے نفع کے لحاظ سے نہیں۔