السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: تقدير البدل باثني عشر ألف درهم أو بألف دينار على قول من جعلهما أصلين باب: دیت کے متبادل کو بارہ ہزار درہم یا ایک ہزار دینار مقرر کرنے کا بیان، ان ائمہ کے قول کے مطابق جنہوں نے ان دونوں کو اصل (بنیاد) قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 16179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ فِي الدِّيَاتِ: " وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جو دیت کے بارے میں ایک خط لکھا تھا، اس میں تھا کہ ”سونے والوں کے ذمے ۱۰۰۰ دینار ہیں۔“