السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: أسنان الإبل في الخطأ باب: قتلِ خطا میں (دیت کے طور پر دیے جانے والے) اونٹوں کی عمروں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْروٍ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا، قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: الْعَقْلُ فِي الْخَطَأِ خَمْسَةُ ⦗١٣٠⦘ أَخْمَاسٍ: فَخُمُسٌ جِذَاعٌ، وَخُمُسٌ حِقَاقٌ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ لَبُونٍ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ مَخَاضٍ، وَخُمُسٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ، وَالسِّنُّ فِي كُلِّ جُرْحٍ قَلَّ أَوْ كَثُرَ خَمْسَةُ أَخْمَاسٍ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ.عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد کا قول نقل کرتے ہیں کہ ہمارے وہ فقہاء جن سے میں ملا ہوں اور جن کی بات حرفِ آخر تصور کی جاتی تھی، ان میں سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ، سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور جیسے دوسرے مشائخ، جب یہ کسی چیز میں اختلاف کرتے تو ہم ان میں سے جمہور کی بات کو لے لیتے۔ یہ سب کہتے ہیں کہ قتلِ خطا میں دیت میں پانچ اقسام ہیں: «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“، «حِقَّةٌ» ”حقہ“، «بَنَاتُ لَبُونٍ» ”بناتِ لبون“، «بَنَاتُ مَخَاضٍ» ”بناتِ مخاض“، «بَنُو لَبُونٍ» ”بنو لبون مذکر“ اور زخم میں ان عمروں میں اور صفات میں ضرورت کے مطابق کمی زیادتی ہوتی رہے گی۔