السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: صفة الستين التي مع الأربعين باب: ان ساٹھ اونٹوں کی صفت کا بیان جو چالیس کے ساتھ (دیت میں) شامل ہوتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ " وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَكُونَ رِمِّيَّا فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ ".عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں، اور وہ (دیت) 30 حقے، 30 جذعے اور 40 حاملہ اونٹنیاں ہیں، یہ قتلِ عمد کی دیت ہے، اور جس چیز پر ان سے صلح ہو جائے وہ انہی کی ہے، اور یہ دیت کی سختی ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شبہ عمد کی دیت بھی عمد کی دیت کی طرح مغلظہ ہے، اور اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈال دے اور بغیر کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے اندھا دھند پتھراؤ اور مار پیٹ ہو جائے۔“