حدیث نمبر: 16111
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، قَالَ: طَعَنَ رَجُلٌ آخَرَ بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَقَالَ: " انْتَظِرْ " ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: أَقِدْنِي، قَالَ: " انْتَظِرْ " ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ أَوْ مَا شَاءَ اللهُ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ فَبَرِئَ الْأَوَّلُ وَشُلَّتْ رِجْلُ الْآخَرِ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ " أَقِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: " لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ، قَدْ قُلْتُ لَكَ: انْتَظِرْ، فَأَبَيْتَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن طلحہ بن یزید کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی ٹانگ کو سینگ سے زخمی کر دیا، وہ نبی ﷺ کے پاس قصاص لینے آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انتظار کر لو۔“ پھر دوبارہ قصاص لینے آ گیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”انتظار کر لو۔“ پھر تیسری مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ قصاص طلب کرنے آیا تو آپ ﷺ نے قصاص لے کر دے دیا۔ اس شخص کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی اور قصاص لینے والے کی مثل ہو گئی تو وہ دوبارہ قصاص کے مطالبے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تیرے لیے کچھ نہیں، کیا میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ انتظار کر لے؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16111
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»